Story of Jammu & Kashmir

Story of Jammu & Kashmir

تاریخی اعتبار سے ریاست کشمیر جموں، لداخ، وادی کشمیر سے لے کر گلگت بلتستان تک کے علاقوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ پھر 1948 میں قبائلیوں اور پاک فوج نے مل کر گلگت بلتستان اور وادی کشمیر کا ایک حصہ آزاد کرا لیا۔ بعد میں 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے بعد کچھ حصہ چین کے پاس چلا گیا جسے پاکستان کے ساتھ چین کی بارڈر سیٹلمنٹ معاہدے کی وجہ سے اسے آپ پاکستان کا حصہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

ریاست کشمیر کا مجموعی رقبہ 86 ہزار مربع میل سے کچھ کم ہے اور اسے رقبے کے اعتبار سے آپ مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

پاکستان 30 ہزار مربع میل سے کچھ زیادہ کا رقبہ کنٹرول کرتا ہے،
چین ساڑھے 16 ہزار مربع میل پر کنٹرول رکھتا ہے جسے وہ پاکستان کے ساتھ بارڈر سیٹلمنٹ معاہدے کے ساتھ شئیر کرتا ہے۔
اور بھارت کے پاس تقریباً چالیس ہزار مربع میل کا رقبہ ہے۔

یوں انڈیا کے پاس تقریباً 47 فیصد جبکہ پاکستان کے پاس تقریباً 35 فیصد ڈائریکٹ اور مزید 19 فیصد ان ڈائریکٹ حصے کا کنٹرول ہے جو کہ کل ملا کر 53 فیصد بنتا ہے۔

اب آجائیں بھارت کے زیرتسلط کشمیر پر۔

جموں، وادی اور لداخ پر مشتمل اس حصے کی مجموعی سوا کروڑ آبادی کا 67 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے، 30 فیصد ہندوؤں پر اور باقی سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔

اس میں مزید نیچے جائیں تو وادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جو کہ 90 فیصد سے زائد بنتی ہے،
جموں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے،
اور لداخ میں ویسے تو شیعوں کی تعداد 46 فیصد ہے جو کہ اکثریت ہے لیکن وہاں سکھوں اور بدھ مت کو ملا کر ان اکثریت دکھا دی جاتی ہے اور یہی وہ وہ نکتہ ہے جو پاکستان کی اگلی سٹریٹیجی کی بنیاد ہے۔

یہ تو آپ سب جان ہی چکے ہیں کہ تقسیم کے وقت بھارت نے آرٹیکل 370 کے ذریعے ریاست کشمیر کو آزاد حیثیت دیتے ہوئے اپنے ساتھ شامل ہونے کیلئے رضامند کرلیا تھا اور گزشتہ روز آرٹیکل ختم کرکے باضابطہ طور پر جموں و کشمیر اور لداخ کو دو علیحدہ یونٹس میں تقسیم کرکے اپنا حصہ بنا لیا۔

س سے بظاہر زمینی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی کیونکہ انڈیا پہلے ہی وہاں پر قابض ہے، صرف یہی ایک اضافہ ہوا ہے کہ اب عام بھارتیوں کو کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت مل گئی جو کہ پہلے نہیں تھی۔ اس سے آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگلے چند سالوں میں وہاں ہندوؤں کی آبادی بڑھنے کا امکان ہے۔

عمران خان کے امریکی دورے کے موقع پر ٹرمپ نے اچانک یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا تھا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور یہ بات مودی نے خود اسے کال کرکے کہی تھی۔ عمران خان نے اسے ویلکم کیا لیکن مودی نے اپنی شرمندگی چھپانے کیلئے اس کی تردید کردی جس کے جواب میں ٹرمپ کے ترجمان نے واشگاف الفاظ میں دہرایا کہ ٹرمپ کو غلط بیانی کی عادت نہیں، اس نے وہی کہا جو مودی نے اپنی درخواست میں کہا تھا۔

مودی کی درخواست کے خدوخال کچھ یوں تھے:

پاکستان گلگت اور بلتستان کو اپنا حصہ بنا لے،
بھارت ہندو اکثریت والے علاقے جموں کو اپنا حصہ بنا لے،
اس کے ساتھ ساتھ لداخ جہاں غیر مسلم اکثریت میں ہیں، وہ بھی انڈیا کے پاس چلا جائے،
پیچھے بچے آزاد کشمیر اور سری نگر – یا تو آزاد کشمیر پاکستان اور سری نگر انڈیا لے جائے، یا پھر ان دونوں کو اکٹھا کرکے ایک کنٹرولڈ سٹیٹ بنا دی جائے جس کا سرحدی اختیار بھارتی فوج کے پاس ہو تاکہ وہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا سکے۔

اس منصوبے کی آؤٹ لائن پاکستان کو بہت پہلے دی جا چکی تھی جو کہ ہم نے چپ چاپ سائیڈ پر رکھ دی تھی کیونکہ اب یہی نظر آرہا تھا کہ بھارت کمزور پڑ رہا ہے۔

امریکہ میں جب یہ منصوبہ دوبارہ شئیر کیا گیا تو عمران خان نے اس کے آخری حصے کو مسترد کرتے ہوئے کہ اگر آزاد کشمیر اور سری نگر پر مشتمل ایک ریاست بنتی ہے تو یہ مکمل آزاد ہوگی اور اس میں مسلم ممالک کی فوج موجود رہے گی جو کہ بھارت کو سرحدی تحفظ کی ضمانت دے گی۔

عمران خان نے دوسرا اعتراض لداخ پر کیا کیونکہ وہاں مسلم شیعہ آبادی کی دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اکثریت ہے، چنانچہ لداخ بھی سری نگر، مظفرآباد کا حصہ بنا کر آزاد کیا جائے۔

یہ تجویز بھارت کو پسند نہ آئی۔

آپ کو یاد ہوگا کہ اپنے امریکی دورے کے آخری دن جب عمران خان تھنک ٹینک کے پروگرام میں شرکت کی تو ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا تھا کہ شیعوں میں جہاد اور شہادت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔

آپ کے خیال میں عمران خان نے یہ بات ایران کے حوالے سے کی تھی؟ ہرگز نہیں۔ خان نے یہ بات بالواسطہ طور پر امریکیوں سے کہی تھی کہ لداخ کو اگر بھارت کا حصہ بنایا گیا تو وہاں کی شیعہ آبادی کی تحریک اسی طرح جاری رہے گی جس طرح کشمیر میں مجموعی تحریک چل رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کو یہ نکتہ پوری طرح سمجھ آگیا تھا اور اسی لئے انہوں نے بھارت کو بھی یہی پٹی پڑھائی۔ بھارت لیکن آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے چکر میں ایک بنیادی غلطی کرچکا ہے۔ اس نے جموں و کشمیر کو ایک یونٹ اور لداخ کو دوسرا یونٹ بنا دیا ہے۔ اب یا تو اسے ان تینوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے، یا پھر انتظامی طور پر وادی اور لداخ کو علیحدہ کرکے جموں اس میں سے نکال کر اپنا حصہ بنانا ہوگا۔ بھارت کی پلاننگ یہ تھی کہ لداخ تو پہلے ہی اس کے پاس آجائے گا، نیگوشی ایٹ کرنے کے بعد وہ جموں کے بہانے وادی بھی ہتھیا لے گا۔ عمران خان نے لیکن شیعہ جہادی عنصر کی بات کرکے واضح اشارہ دے دیا کہ بھارت کی ابھی جان نہیں چھوٹنے والی۔

اب آجائیں پاکستان کی سٹریٹیجی کی طرف۔

پچھلے ستر برسوں میں ہم انڈیا کو کھینچ کھانچ کر اس مقام پر لے آئے ہیں کہ اب وہ اپنے کشمیر کا تصفیہ کرنا چاہتا ہے۔ ریاست کشمیر کا 53 فیصد تو اللہ کی مہربانی سے پہلے ہی ہمارے کنڑول میں ہے، اب ہم وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ لداخ بھی لینا چاہتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں وادی آزاد ہوگی جو کہ اللہ کی مہربانی سے پوری امید ہے کہ جلد ہی ہونے جارہی ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ہم اسی پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اگلے مرحلے میں لداخ مانگیں گے، نہ ملنے کی صورت میں وہی کچھ دوبارہ ہوگا جو پچھلے ستر برس میں ہوتا آیا۔

جس طرح روس جیسے طاقتورملک کا کئی حصوں میں بٹوارا ہوگیا، اگلے پچاس برس میں بھارت کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا، بشرطیکہ وہ خود ان علاقوں پر اپنا تسلط ختم نہیں کردیتا۔

پاکستانی قوم تسلی رکھے اور اپنی قیادت پر اعتماد رکھے۔ فوج تو کشمیر کے معاملے میں 1948 میں بھی پیچھے نہیں ہٹی تھی جب اس کے پاس وسائل نہ تھے، اب تو اللہ کا کرم ہے، نہ اسلحے کی کمی ہے اور نہ ایٹیمی مواد کی۔

دوسری طرف پاکستان کا حکمران ایک شدید قسم کا وطن پرست لیڈر ہے جو اپنے خون کے آخری قطرے تک ملک کیلئے لڑنے کا فن جانتا ہے۔

پاک فوج اور عمران خان کی شکل میں جو لیتھل کمبی نیشن اس وقت دستیاب ہے، اس کے ثمرات انشا اللہ آپ اگلے تین سے چار برسوں میں دیکھنا شروع ہوجائیں گے!!!

ahmadmalik005

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *