دل دیاں گللاں، صفہ نمبر پانچ، شاعر دانیال ملک

دل دیاں گللاں، صفہ نمبر پانچ، شاعر دانیال ملک

کہی دوہکا ملا تو کہی بے وفائی ملی
اسے ملا تو سب بھول گیا
تب جا کر احساس ہوا بے جان چیز کا
اسکی چمک اور خوبصورتی کوئی یاد رہنے نہیں دیتی

بے مروت چیز سے کون دللگی کرتا ہے
یہ تو ہم ہے جو چاند سے محبت کر بیٹھے ہے

سوچا تھا جب کبھی ملاقات ہوئی اس سے
ساتھ بیٹھ کے لکھے گے داستاں دور محبت کی

جب کبھی موقع ملا اس سے ملنے ضرور جاؤں گا
کس بات کی ہےچینی یہ جس میں سونا بھی محال ہے

Daniyal Malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Inline
Inline