دل دیاں گللاں،صفہ نمبر سترہ، شاعر دانیال ملک

دل دیاں گللاں،صفہ نمبر سترہ، شاعر دانیال ملک

چھوڑ کے گئی تھی مجھے کسی اور کے خاطر
اب یاد کرتی ہے مجھے پیشتاوے کے خاطر


میں چاہو بھی تو اسے بھولا نہیں سکتا
وہ دکھی ہو تو اسے روتا دیکھ نہیں سکتا
میں که بھی دو اگر کہ نفرت کرتا ہو تجھ سے
محبت کے خاطر یہ کر نہیں سکتا

پربت بھی سہم جاے ایسا تھا میرا چاند
صورت انساں میں ایسا تھا میرا چاند


وہ جو پیلا دے ہمے ساقی اس جام میں اتنا زور کہا
ہمے نظر آے اس صورت میں نشہ اس جام میں اتنا زور کہا

میں جب ملا اس سے آنسو روک نا پایا
ذرا دیکھتے دل کو خون کس طرح نکال آیا


ہم اکثر غم میں چلے جایا کرتے تھے
بھولا کے اسکو خود کو مٹایا کرتے تھے
کوئی پیار نہیں تھا میرا اس دنیا میں اس دنیا میں
اسی لئے تنہائی میں جیا کرتے تھے

دل دیاں گللاں، شاعر دانیال ملک

Copyrights © 2019. All rights reserved. www.pakistanonline.org

Daniyal Malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Inline
Inline