دل دیاں گللاں،صفہ نمبر بارہ، شاعر دانیال ملک

دل دیاں گللاں،صفہ نمبر بارہ، شاعر دانیال ملک

عشق میں اسکے خاطر کیا سے کیا کر بیٹھے
زندگی کیا سے کیا ہو گئی ہم کیا سے کیا کر بیٹھے
روٹھ گے وہ ہم سے بس اتنی سی بات پے
مانگتے تھے وقت اپنے لیۓ محبت کی خاطر

نیند نہیں آتی ہمے جب تک اس سے بات نا کر لے
یہ کیا زندگی ہے اسی کی یاد میں گزر رہی ہے

اسکی چوریوں کی آواز سے مچلتا تھا دل ہمارا
وہ ایک نظر دیکھے تو عام تھا ہمارا تھم جانا

اسکی عداہ جو دیکھی ہم نے روک نا سکے خود کو
لکھ بیٹھے اسکی مسکان کو اور شاعر بنا بیٹھے خود کو

بھول جا اسے وہ کسی اور کی ہو چکی ہے
مانتا نہیں میں کے وہ کسی اور سے محبت کر سکتی ہے

حیثیت رکھتی تھی وہ میرے لیے کوئی نہیں سمجھ سکتا اس بات کو
زندگی تھی وہ میرے لیۓ زندہ رہتا تھا اسی کے لیۓ

دل دیاں گللاں، شاعر دانیال ملک

Copyrights © 2019. All rights reserved. www.pakistanonline.org

Daniyal Malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Inline
Inline